Fri, November   21, 2008      
باجوڑ میں شدت پسندوں‌کے خلاف سیکورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں تیرہ غیرملکیوں سمیت ‌چوبیس جنگجو ہلاک  •    
 
تازہ خبریں  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
پیش منظر:     حالات حاضرہ کا پس منظراور پیش منظر  
عالمی اقتصادی بحران کا واحد حل،اسلامی معاشی نظام  
Updated : 11/21/2008 12:43:12 AM  

 تجزیاتی رپورٹ: افتخار جمیل : اے آر وائی ون ورلڈ ڈاٹ کام   
 بین الاقوامی اقتصادی کساد بازاری اور عالمی معیشت کی زبوں حالی نے پوری دنیا کو درحقیقت مالیاتی دہشت گردی میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکا اس کے مغربی اتحادی دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ اب تک ساﺅ پالو اور واشنگٹن میں جی ٹوئنٹی کی دو کانفرنسیں کر چکے ہیں ۔

اب 28نومبر کو دوہا قطر میں تیسری جی ٹو ئنٹی کانفرنس کی تیاریاں کی جاری ہیں۔ نشستاً گفتاً اور برخواستاً کے مصداق اب تک ہونے والے ان اعلیٰ سطح اجلاسوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے،جبکہ مالیاتی بحران کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی نہیں رہا ہے۔

ادھرعالمی مالیاتی فنڈ کے سربراہ اسٹراس کاہن نے یہ کہہ کر دنیا بھر کے ترقی پذ یر اور مقروض ملکوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ عالمی معاشی بحران کو حل کرنے کے لئے آئی ایم ایف کو مزید فنڈز درکار ہیں۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ادارے کو آئندہ چھ ماہ میں کم از کم ایک سو بلین ڈالر کی ضرورت پڑے گی تب کہیں جاکرکساد بازاری کی سنگینی میں کمی آئے گی ۔

اسٹراس کاہن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عالمی مالیاتی بحران کا شکار ملکوں کو اپنی شرح سود میں کمی کرنی چاہئے۔

درحقیقت یہ سودی نظام ہی اس بحران کی اصل وجہ ہے ۔ جب تک دنیا سود سے پاک نظام نہیں اپناتی ہر دس بیس سال بعد دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک اسی طرح کے مالی بحرانوں کا شکار ہوکر سود خور ممالک کے قائم کردہ بین الاقوامی اداروں اور کارپو ریشنوں کے غلام بنے رہیں گے۔

فی الو اقعہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرکے غیر سودی اسلامی معاشی نظام کو اپنایا جائے۔ اسلامی معاشی نظام کا ایک اہم شعبہ اسلامی بینکاری کا نظام ہے جو جوئے، سود اور غیر فطری منافع خوری سے پاک ہے۔

موجودہ اقتصادی اتھل پتھل میں بھی یہ نظام متاثر نہیں ہوا اور اس کی کارکردگی مثبت انداز میں جاری رہی۔جس کی وجہ یہ ہے  کہ اسلامی بینکاری نظام میںسرمایہ کاری کرنے والو ں کو یہ پتہ رہتا ہے کہ ان کا پیسہ کہاں لگایا جارہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ عالمی بحران کا اسلامی بینکاری نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔اسلامی بینکاری کا یہ نظام اسلامی ممالک میں بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے اور اب تو مغربی ملکوں کے سرکردہ بینکوںنے بھی اسلامک بینکنگ کی شاخیںقائم کرنا شروع کردی ہیں۔

اکثر ماہرین اقتصادیات اس امر پر متفق ہیںکہ جاری عالمی معاشی بحران سے اسلامی بینکاری نظام بالکل محفوظ رہا ہے۔دنیا بھر میںپھیلی ہوئی کساد بازاری کے پیش نظر بیشتر اسلامی ملکوں خاص طور پر ایران اور کویت میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا سورج اب غروب ہورہا ہے۔

اسلامی بینکاری نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کا بہترین متبادل قرار دینے والوں کا کہنا ہے کہاسلامی بینکاری کا انحصار اعداد و شمار کی بھول بھلیوں کے بجائے زمین و جائداد جیسے حقیقی سرمائے کے لین دین پر استور ہوتا ہے اس لئے یہ نظام بہت ذیادہ مستحکم اور قابل اعتماد ہے۔

دنیا بھر کے دیگر ماہرین معاشیات جو حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں اب وہ اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ خسارہ سے دوچار سرمایہ دارانہ بینکاری نظام کو لازماً اسلامی بینکاری نظام سے سبق سیکھنا چاہئے کیونکہ ا س نظام میں کھاتے داروں کا سرمایہ سٹّے، شراب، قمار بازی اور دیگر غیر اخلاقی کاروبار میں نہیں لگایا جاتا،اس قسم کے کاروبارقطعی غیر اسلامی ہیں اور یو ں بھی ان میں نقصان کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ایک قطری نژادمصری ماہر اقتصادیات یوسف القراداوی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سودخور سرمایہ دارانہ نظام کے زوال اور عالمی پیمانہ پر جاری معاشی بحران سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ماہرین اقتصادیات دنیا کو ایک نئے معاشی نظام سے متعارف کرائیں جوخالصتاً شرعی بنیادوں پر استوار ہو۔ جو یقیناً اسلامی معاشی نطام ہے اور یہی ہمارا مقدر ہے۔



عالمی اقتصادی بحران کا واحد حل،اسلامی معاشی نظام   
چندریان مشن لانچنگ ایک ناقابل فراموش منظر   
ہاتھیوں کی لڑائی میں گنوں کا صفایا   
مسجد اقصیٰ کے مدرسہ پریہودیوں کے معبد کی تعمیر   
دنیا کے امیر ترین کنگلے رئیس ہوگئے   
نو،نومبر تا 14نومبر،کیا ، کب اورکیسے   
امریکا سے اظہار ناپسندیدگی ۔۔۔۔کیوں؟   
مالدیپ کا زمین کے حصول کیلئے منصوبہ   
میزائل پروگرام پرروسی صدر کا اوباما کو چیلنج   
امریکہ اورمغربی اتحادی نوشتہ دیوار پڑھ لیں   
مستحکم ڈالر اور کمزور پاکستانی روپیہ، مقابلہ مشکل ہوگیا   
مذہب نہیں سکھاتا کسی سے بیر رکھنا   
اقوام متحدہ کی بین ا لمذاہب کانفرنس   
یکم نومبر تاآٹھ نومبر:اہم واقعات پر ایک نظر   
اوباما کی جیت: نتائج و اثرات   
بھوٹان کے نئے بادشاہ کی روایتی تاج پوشی   
پاکستان: 2002ء سےاب تک سینکڑوں خودکش حملے   
مکان بک کراؤ مفت کار اور سونا پاؤ   
امریکا کی مہنگی ترین انتخابی مہم   
کیا میرے آبائی وطن افغانستان کا مستقبل تاریک ہے؟   

 

 



 
Copyright © ARY OneWorld
All right reseved. Reproduction or misrepresentation of material avalible on this
website in any form is infriingement of copyright and is strictly prohibited.