Fri, September   3, 2010      
 
تازہ خبریں  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
پیش منظر : منتخب خبریں ، کالم ، مضامین ، فیچر اور پیش منظر و پس منظر
مضمون نگاروں کی راۓ سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
اے آر وائی سچ دکھانے پر ایک بار پھر زیرعتاب  
Updated : 8/9/2010 2:01:37 PM  

   
 اے آر وائی نیوز سچ دکھانے اور سچ سنانے پر ایک بار پھر زیرعتاب ہے۔ ملک بھر میں نشریات بند کردی گئی ہیں۔ یہ پابندی پہلی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا رہا ہے تاہم اے آر وائی نیوز کا سچ کا سفر جاری ہے۔

پاکستان میں صحافت مستقل خطرے کی زد میں رہی ہے اور اسے طرح طرح کی پابندیوں اور مسائل کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اے آر وائی نیوز عوام تک سچ پہنچانے کیلئے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے جس کی پاداش میں اسے حکومتی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسے گیارہویں بار بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ اے آر وائی کی نشریات بند کی گئی ہیں۔

نشریات دکھانے والے کیبل آپریٹرز کو دھمکیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔ اقتدار میں چاہے کوئی سویلین حکمران ہو یا غیر سویلین۔سچ سب کو ہی کڑوا لگا۔ بات صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہیں ہے، سیاسی اور دیگر گروہ بھی پیچھے نہیں۔ ہر کوئی اپنی مرضی کی خبریں چاہتا ہے۔ اپنے مخالفین کے بلیک آوٴٹ اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ کوریج کا خواہشمند ہے۔

اے آر وائی ڈجیٹل نیٹ ورک کے نیوز چینل کو سب سے پہلے دوہزار پانچ میں بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کراچی میں ایک سیاسی جماعت زیادہ کوریج نہ ملنے پر ناراض ہوگئی اور پورے شہر میں نشریات بند کردی گئی۔ غیرجانبدارانہ تجزیوں اور تبصروں، خبر کو خبر کی طرح پیش کرنے کی خصوصیت کی وجہ سے اے آر وائی نیوز نہ صرف پاکستان بلکہ یورپ، امریکہ اور خلیج سمیت جہاں کہیں بھی اردو سمجھی جاتی ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کی حکومتی اور ریاستی عناصر کی طرف سے اے آر وائی نیوز کو اپنا مطیع بنانے کی کوششیں اور سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔

میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا عوام الناس کے مسائل و مصائب سامنے لانے کا موثر ذریعہ ہے، اس سے حکومت کو عوام کے مسائل کے حل کیلئے موثر
 
پالیسی سازی میں بھی مدد مل سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں حکمرانوں کی طرف سے عوام عوام کی رٹ تو لگائی جاتی ہے لیکن عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی۔ میڈیا کی طرف سے ان کی توجہ عوام کے مسائل کی جانب مبذول کرائی جاتی تو انہیں یہ مخالفین کی سازش اور اپنی شان میں گستاخی محسوس ہوتی ہے۔

 اس سے پہلے پرویزمشرف کی حکومت میں بھی سرکاری سچ کے بجائے حقائق عوام کے سامنے لانے اور حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کی وجہ سے اے آر وائی خصوصی عتاب کا نشانہ رہا۔ پرویزمشرف حکومت نے سولہ نومبر دوہزار سات میں اے آر وائی نیوز پر پابندی لگائی۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اے آر وائی نیوز کا لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا۔لیکن اے آر وائی نیوز نے سچ کا علم تھانے رکھا اور جھکنے سے انکار کردیا۔

اس دوران صحافتی تنظیموں، سول سوسائیٹی کی تنظیموں سمیت مجموعی طور پر عوام کی طرف سے اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ عوام نے اے آر وائی نیوز کا بھرپور ساتھ دیا۔ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو شہید خود اس عمل کیخلاف میدان میں آئیں اور اے آر وائی پر پابندی کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے اے آر وائی کے دفاتر کا بھی دورہ کیا اور اے آر وائی نیوز کے صحافیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

پیپلزپارٹی کی حکومت اظہار رائے کی آزادی اور عوام تک معلومات تک رسائی کے حق کے متعلق شاید بینظیر بھٹو کے موٴقف کو بھول چکے ہیں۔ جو لوگ حکمرانوں کو منتخب کرتے ہیں، انہیں ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے اور سوال پوچھنے اور احتجاج کا بھی حق حاصل ہے۔ یقیناً ملک کے صدر پر جوتا پھینکنے کی حمایت نہیں کی جارہی ہے لیکن عوام کو اس خبر سے بے خبر رکھنا بھی غلط ہے۔ اے آر وائی نیوز کو اسی کی سزا دی جارہی ہے۔ صدر زرداری پر لندن میں جوتا پھینکنے کی خبر نشر ہوتے ہی ملک بھر میں اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کردی گئی ہے۔ لیکن تمام تر دباؤ اور ہتھکنڈوں کے باوجود اے آر وائی نیوز سچ کیساتھ ہے۔
 


اے آر وائی سچ دکھانے پر ایک بار پھر زیرعتاب   
رباب محبت اور عقیدت کا ساز ہے   
ہرلمحہ باخبر رکھنے کی سزا۔۔۔؟   
کرکٹ کا مرثیہ   
سیلاب زدگان کو بدترین تباہی کا سامنا   
پاکستان میں سیلاب کی تاریخ   
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا حل   
ملکی تاریخ کا19واں فضائی حادثہ   
اسلام آباد کا افسوسناک واقعہ   
پاکستانی سیاست دانوں کی جانوں کا نذرانہ   
کرنل امام کا ویڈیو بیان   
پاکستان کی آسٹریلیا پر فتوحات   
پاکستان اور بھارت ۔۔۔ ایک عجب اتفاق   
کرکٹ کی دنیا کا نیا ہیرو   
سکوائش کی دنیا کا درخشاں ستارہ، جان شیر خان   
شامی یونیورسٹوں میں نقاب پر پابندی   
رمضان میں سستی چینی کی فراہمی کے دعوے   
افغان تعمیر نو اور امن سے متعلق عالمی کانفرنس   
پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر تحفظات   
جنوبی افریقہ:انقلابی رہنمااورسابق صدر نیلسن منڈیلا   
پاک بھارت مذاکرات کا ماضی اورمستقبل   
موجودہ حالات میں ن لیگ کا موقف کیا ؟   
عالمی کپ فٹبال،چند یادیں اور واقعات   
ورلڈ کپ میں مغرب توہم پرستی کی مثال بن گیا   
جعلی ڈگریاں ،میڈیا کا کیا قصور؟   
صحت کی سہولت کا فقدان،عوام کہاں جائیں؟   
کیا قومی کانفرنس نتیجہ خیز ہو گی ؟   
لاہور:گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردوں کیلئے سر فہرست   
پرنسز آف ویلز، لیڈی ڈیانا کی سحر انگیز شخصیت   
کیا امریکا افغان دلدل میں دھنس رہا ہے؟   
بے حس سیاستدان اور بے بس عوام   
پاک بھارت مذاکرات یا بھارتی ڈرامہ   
افغان حکمت عملی پر امریکی حکام میں اختلافات   
وادی سوات میں امن کی واپسی کے آثار   
بھارت: قبرستانوں کے لئے زمین تنگ ہوگئی   
نیٹو کا مستقبل   
کرغزستان کے نسلی فسادات اور خون کی ہولی   
قبائلی عوام طالبان کے زیرتسلط   
حج درخواستوں کی وصولی   
خیبر پختونخوا: ہیروئن کا نشہ اور ایڈز کا پھیلاؤ   
جنگ زدہ علاقے: ذہنی امراض میں اضافہ   
طوفان کے آگے ۔۔۔بند   
وفاقی بجٹ 2010-11ء کی تفصیلات   
طوفان سے پہلے طوفان کا شور   
لیلیٰ اور نرگس کے بعد۔۔۔   
سمندری طوفان ، حفاظتی انتظامات اور پرہیز   
روزگار کا اہم ذریعہ فوج میں بھرتی   
اسرائیل کا ایک اور ظلم   
غزہ امدادی جہاز پر اسرائیل کا حملہ   
مشرق وسطیٰ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عزم   

 




 
Copyright © ARY OneWorld
All right reseved. Reproduction or misrepresentation of material avalible on this
website in any form is infriingement of copyright and is strictly prohibited.