Thu, March   18, 2010      
 
تازہ خبریں  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
پیش منظر : منتخب خبریں ، کالم ، مضامین ، فیچر اور پیش منظر و پس منظر
مضمون نگاروں کی راۓ سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
عراق جنگ آٹھویں سال میں داخل  
Updated : 3/18/2010 10:56:47 AM  

 شمس الحق، اے آر وائی نیوز کراچی   
عراق جنگ کو شروع ہوئے سات سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں جہاں صدام حسین کی حکومت کاخاتمہ ہوا اورعراقی تیل و دیگر وسائل پر اتحادی فوج قابض ہوگئی، وہیں امریکا کو سات سو اڑتالیس ارب ڈالراور چار ہزار سات سو فوجیوں کا نقصان اٹھاناپڑا۔ایک ایسی جنگ جس کی بنیاد جھوٹ پر تھی، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد عراقیوں کا خون کرگئی۔

جنگ تاحال جاری ہے ۔ اگرچہ امریکا نے آئندہ سال تک عراق سے اپنی فوجیں نکالنے کا وعدہ کیا ہے مگر کون جانے یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ ہوگا بھی یا نہیں، یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے تاہم مارچ2003 سے شروع ہونے والی اس جنگ کا سال سال جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔

2003
آپریشن عراق فریڈم کے نام سے شروع کی جانے والی جنگ تریپن بلین ڈالر سے شروع کی گئی تھی۔اس میں امریکا اور برطانیہ کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کی فوجیں شامل تھیں جبکہ دوسری طرف صرف عراق کی فوج تھی۔ تقریباً ساڑھے نو ماہ کے دوران امریکا سمیت اتحا دی افواج کے 580 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ بارہ ہزار اکیاسی سویلین مارے گئے۔

2004
سن 2004 میں امریکا جنگی بجٹ میں اضافہ کرکے اسے پچھتر عشاریہ نو بلین ڈالر پر لے گیا۔ اسی طرح کا اضافہ قابض فوجوں کی اموات میں بھی ہوا، بشمول اتحادی فوجی 906 فوجی جابحق ہوئے ۔جنگ میں دس ہزار سات سو بہتر سویلین بھی شہید ہوئے۔

2005
عوامی آراء کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکا نے 2005 میں بھی اپنا جنگی بجٹ بڑھا کر پچاسی عشاریہ پانچ بلین ڈالر کردیا لیکن اس کے باوجود قابض فوجوں کا نقصان گزشتہ سال کی طرح ہی ہوا۔ مرنے والے فوجیوں میں 897 امریکی اور اتحادی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ چودہ ہزار آٹھ سو بیالیس سویلین کو اپنی جانون کا نذرانہ دینا پڑا۔
 
2006
سن دوہزار چھ میں سب سے زیادہ ستائیس ہزار چھ سو ستانوے سویلین اس جنگ کا نشانہ بنے حالانکہ اس سال امریکا نے جنگ کا بجٹ ایک سو ایک عشاریہ ساتھ بلین کردیا تھا۔ اس کے باوجود جنگ کی بازی امریکی مفاد میں نہیں آئی۔ امریکا اور اتحادی ممالک کے 872 فوجی جابحق ہوئے۔

2007
اگلے سال یعنی 2007 میں امریکا تمام حقائق کو رد کرتے ہوئے جنگی بجٹ کو ایک سو تیس عشاریہ آٹھ بلین ڈالر تک لئے گیا جس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ اس سال بھی 961 امریکی اور دیگر ممالک کی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ شہید ہونے والے سویلین کی تعداد چوبیس ہزار پانچ سو اکیس رہی۔

2008
سن 2008 میں امریکی جنگی جنوں اپنے عروج پر پہنچ گیا اور خود کو جمہوری کہنے والے ملک نے اپنی عوام کی چیخوں کو سنے بغیر جنگی بجٹ میں اتنا اضافہ کردیا کہ کسی بھی جنگ کا ایک سال کا بجٹ ایک ریکارڈ بن گیا۔جی ہاں اس سال صرف اس جنگ کے لئے ایک سواکتالیس عشاریہ ایک بیلین ڈالر خرچ کئے گئے۔ اس سال بھی تقریبا بشمول اتحادی افواج 322 فوجی جاں بحق ہوئے۔ ان سب کے باوجود نو ہزار دو سو سترہ سویلین کی جانیں چلی گئیں۔

2009
سن 2009 میں امریکا میں شدید مالی تباہی اورعالمی معاشی بحران کے عروج پر ہونے کے باوجود امریکا نے عراق جنگ کے لئے چورانوے عشاریہ آٹھ بلین ڈالر مختص کئے یہ گزشتہ کچھ سالوں کے مقابلے میں کم تو تھا لیکن اس کا مطلب جنگ ختم کرنا نہیں تھا۔ لہذا اس سال بھی امریکا کو ایک سو اننچاس اور برطانیہ کو ایک فوجی کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ چار ہزار چھ سو پنتالیس سویلین بھی نشانہ بنے۔

2010
رواں سال بھی امریکا نے پینسٹھ عشاریہ چار بلین ڈالر کا بجٹ رکھا ہے اور وہ صرف دو مہینے میں اپنے بارہ فوجی بھی گوا چکا ہے۔یوں صرف چھ سالوں میں کل چھ سو بیاسی عشاریہ آٹھ بلین ڈالر اس جنگ پر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ چار ہزار تین سو بیاسی امریکی اور ایک سو اناسی برطانوی اور ایک سو انتالیس دیگر ممالک کے فوجی کام آچکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد بے گناہ شہری اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ْ
 


عراق جنگ آٹھویں سال میں داخل   
اسکواش کے مایہ ناز سپوتوں کا غربت زدہ گاؤں   
ہتھیاروں کی عالمی تجارت   
چھترول پر چھترول   
افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ   
پاکستانی طالبان کمزور ہوئے،ختم نہیں: ماہرین   
گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن   
کیا چاہیے؟ سگریٹ کا مزہ یا زندگی بھرکا مزہ   
دوسری شادی؟ سنگین مسئلہ یا مذاق   
کشمیری خواتین : ریاستی دہشت گردی کا بدترین نشانہ   
عراق اور امریکی خدشات   
قوم سے وزیراعظم کے ریڈیو خطاب کا مکمل متن   
سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات معدوم   
کتاب کا عالمی دن   
سری لنکن ٹیم پرحملہ، ایک سال مکمل   
ہیٹی کے بعد چلی کی تباہی   
صوبہ سرحد میں اسکولو ں کی تباہی کے مقاصد   
ایشیائی اور مغربی ہاکی ٹیموں کا ٹکراوٴ آج سے   
عبدالمالک ریگی کون ہے؟   
علاقائی امن میں کشمیر کی اہمیت   
ضمنی انتخابات، ملئے کچھ اہم امیدواروں سے   
حلقہ این اے 55، انتخابی ہنگامے سے قبل ہنگاموں میں   
افغان مشن ہالینڈ حکومت کو لے ڈوبا   
اے آر وائی نیوز کو سچ بولنے کی سزا   
ایک اور عمارت سے طیارے کا تصادم: دہشت گردی نہیں   
افغانستان سے زیادہ پاکستان کا نقصان   
جنوبی وزیرستان سے طالبان کے گہرے رشتے   
کچھ جنوبی وزیرستان کے بارے میں   
پھر آگئے ۔۔۔بو کاٹا کے دن   
ہر صدی کا شاعر: مرزا اسد اللہ خان غالب   
ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔   
افغانستان: آپریشن مشترک فیصلہ کن ثابت ہوگا   
ذکر کچھ اولین پاکستانی فلموں کا   
نیپال ، ہیٹی سے زیادہ طاقتور زلزلے کا خدشہ   
ہجرتیں اور دربدریاں، امان کی تلاش   
خشک سالی کا خطرہ ختم ہوا   
ہفت پہلو شخصیت :اجمل خٹک   
دمشق کی عورت، آزاد بھی غلام بھی   
آبی ذخائر میں خشکی کے ڈیرے   
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی   
عافیہ صدیقی،ڈاکٹر سے امریکی فیصلے تک   
کرکٹ ٹیم کے لئے مایوس کن مہینہ   
ہیٹی: بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری   
وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم و دیگر منصوبے   
ہیٹی زلزلہ اور اے آر وائی ڈیجیٹل کی کاوشیں   
ہیٹی کا زلزلہ اورسلمان اقبال کا جذبہ انسانیت   
ہربھجن کا ایک اور نشانہ   
وڈیروں کی جمہوریت   
پاکستان پر مبینہ ڈرون حملے،ایک اجمالی جائزہ   
ہیٹی زلزلہ: لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ   

 




 
Copyright © ARY OneWorld
All right reseved. Reproduction or misrepresentation of material avalible on this
website in any form is infriingement of copyright and is strictly prohibited.