Fri, March   12, 2010      
 
تازہ خبریں  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
پیش منظر : منتخب خبریں ، کالم ، مضامین ، فیچر اور پیش منظر و پس منظر
مضمون نگاروں کی راۓ سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن  
Updated : 3/11/2010 9:49:26 AM  

 سید مدثر  
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج گردے کے امراض سے آگاہی کا دن منایاجارہا ہے۔اس سال یہ دن ذیابیطس پر کنٹرول کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے عنوان سے منایاجارہا ہے جو گردے فیل ہونے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

 گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ہر سال لاکھوں افراد گردے فیل ہونے کے باعث انتقال کرجاتے ہیں۔اس دن کی مناسبت سے مہم کے دوران اس بات کا شعور اجاگر کیا جاتا ہے کہ گردوں کی بیماری عام ہے، نقصان دہ ہے لیکن قابل علاج ہے۔

گردوں کے امراض سے بچنے کی بات کی جائے توصحت مند جسم،بلند فشارخون اور ذیابیطس کا سبب بننے والی غذا اور سرگرمیوں سے دور رہنا اورسگریٹ و شراب نوشی سے پرہیز سرفہرست ہے۔گردوں کے کینسر کی پچاس فیصد وجوہات سگریٹ نوشی بتائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اپنے
 
وزن کو کنٹرول کرنااورزیادہ سے زیادہ پانی یا کوئی اور مائع کا استعمال بھی سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

 اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس کی شرح ترقی پذیر ممالک کے لحاظ سے کافی زیادہ ہے۔ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں طبی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث صرف چالیس ہزار افراد کو ڈائلیسس کی سہولت میسر ہے جبکہ صرف آٹھ سو افراد ٹرانسپلانٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے پچاس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کے رشتے دار گردہ عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے غریب اور کم آمدنی والے شہریوں کی جانب سے فروخت کئے گئے گردے اس کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

پاکستان میں کئی علاقوں میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو قرضے کی ادائیگی یا اپنی مالی حالات سے تنگ آکر اپنا ایک گردہ فروخت کردیتے ہیں۔

 گردے انسانی نظام سے فاسد مادوں کے اخراج، خون کی صفائی اور خون کے دباوٴ کو مستحکم رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ گردوں کی خرابی کی بنیادی وجہ ذیابیطس، گردے کی پتھری اور ہائی بلڈ پریشر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 21 ملین افراد گردے فیل ہونے کی شکایت سے دوچار ہیں۔اکثریت ایسے افراد کی ہے جو اس سے آگاہ نہیں۔

 ملک میں گردے کے امراض کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا سبب ذہنی تناوٴ، انتشار اور ذیابیطس کے امراض کا ہونا ہے ۔مرض کی صحیح تشخیص اور بچاوٴ کی تدابیر کے ذریعے ہم اس بیماری کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ مرض کی جلد تشخیص نہ صرف گردوں کی کارکردگی کو مزید خراب ہونے سے بچاتی ہے بلکہ امراض قلب اور فالج کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

 ذیابیطس کے مریضوں میں گردے کی بیماری کا امکان چالیس فیصد بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں جسم میں شوگر لیول اور بلڈ پریشر کا کنٹرول نہ ہونا گردوں کی بیماری کی بڑی وجہ ہے۔ انسانی جسم کو روزانہ دس سے بارہ گلاس پانی کی ضرورت ہوتی ہے، پانی کا کم استعمال گردوں کی کارکردگی پر اثر انداد ہوتا ہے ۔چہل قدمی کی عادت اپنانے اور سگریٹ نوشی سے اجتناب سے بھی گردوں کے امراض سے بچا جاسکتا ہے ۔
 


گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن   
کیا چاہیے؟ سگریٹ کا مزہ یا زندگی بھرکا مزہ   
دوسری شادی؟ سنگین مسئلہ یا مذاق   
کشمیری خواتین : ریاستی دہشت گردی کا بدترین نشانہ   
عراق اور امریکی خدشات   
قوم سے وزیراعظم کے ریڈیو خطاب کا مکمل متن   
سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات معدوم   
کتاب کا عالمی دن   
سری لنکن ٹیم پرحملہ، ایک سال مکمل   
ہیٹی کے بعد چلی کی تباہی   
صوبہ سرحد میں اسکولو ں کی تباہی کے مقاصد   
ایشیائی اور مغربی ہاکی ٹیموں کا ٹکراوٴ آج سے   
عبدالمالک ریگی کون ہے؟   
علاقائی امن میں کشمیر کی اہمیت   
ضمنی انتخابات، ملئے کچھ اہم امیدواروں سے   
حلقہ این اے 55، انتخابی ہنگامے سے قبل ہنگاموں میں   
افغان مشن ہالینڈ حکومت کو لے ڈوبا   
اے آر وائی نیوز کو سچ بولنے کی سزا   
ایک اور عمارت سے طیارے کا تصادم: دہشت گردی نہیں   
افغانستان سے زیادہ پاکستان کا نقصان   
جنوبی وزیرستان سے طالبان کے گہرے رشتے   
کچھ جنوبی وزیرستان کے بارے میں   
پھر آگئے ۔۔۔بو کاٹا کے دن   
ہر صدی کا شاعر: مرزا اسد اللہ خان غالب   
ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔   
افغانستان: آپریشن مشترک فیصلہ کن ثابت ہوگا   
ذکر کچھ اولین پاکستانی فلموں کا   
نیپال ، ہیٹی سے زیادہ طاقتور زلزلے کا خدشہ   
ہجرتیں اور دربدریاں، امان کی تلاش   
خشک سالی کا خطرہ ختم ہوا   
ہفت پہلو شخصیت :اجمل خٹک   
دمشق کی عورت، آزاد بھی غلام بھی   
آبی ذخائر میں خشکی کے ڈیرے   
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی   
عافیہ صدیقی،ڈاکٹر سے امریکی فیصلے تک   
کرکٹ ٹیم کے لئے مایوس کن مہینہ   
ہیٹی: بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری   
وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم و دیگر منصوبے   
ہیٹی زلزلہ اور اے آر وائی ڈیجیٹل کی کاوشیں   
ہیٹی کا زلزلہ اورسلمان اقبال کا جذبہ انسانیت   
ہربھجن کا ایک اور نشانہ   
وڈیروں کی جمہوریت   
پاکستان پر مبینہ ڈرون حملے،ایک اجمالی جائزہ   
ہیٹی زلزلہ: لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ   
خوبصورت چہروں پر تیزاب سے حملے   
کراچی : ایک اور خون آشام   
پاکستان میں زرعی خشک سالی کا خدشہ   
میرا کے ستارے پھر گردش میں   
ترقی عجلت میں نہیں ہوا کرتی   
ہر بار ہارنا پاکستان کا مقدر بن گیا؟   

 




 
Copyright © ARY OneWorld
All right reseved. Reproduction or misrepresentation of material avalible on this
website in any form is infriingement of copyright and is strictly prohibited.