پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج گردے کے امراض سے آگاہی کا دن منایاجارہا ہے۔اس سال یہ دن ذیابیطس پر کنٹرول کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے عنوان سے منایاجارہا ہے جو گردے فیل ہونے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ہر سال لاکھوں افراد گردے فیل ہونے کے باعث انتقال کرجاتے ہیں۔اس دن کی مناسبت سے مہم کے دوران اس بات کا شعور اجاگر کیا جاتا ہے کہ گردوں کی بیماری عام ہے، نقصان دہ ہے لیکن قابل علاج ہے۔
گردوں کے امراض سے بچنے کی بات کی جائے توصحت مند جسم،بلند فشارخون اور ذیابیطس کا سبب بننے والی غذا اور سرگرمیوں سے دور رہنا اورسگریٹ و شراب نوشی سے پرہیز سرفہرست ہے۔گردوں کے کینسر کی پچاس فیصد وجوہات سگریٹ نوشی بتائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اپنے
وزن کو کنٹرول کرنااورزیادہ سے زیادہ پانی یا کوئی اور مائع کا استعمال بھی سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس کی شرح ترقی پذیر ممالک کے لحاظ سے کافی زیادہ ہے۔ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں طبی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث صرف چالیس ہزار افراد کو ڈائلیسس کی سہولت میسر ہے جبکہ صرف آٹھ سو افراد ٹرانسپلانٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے پچاس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کے رشتے دار گردہ عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے غریب اور کم آمدنی والے شہریوں کی جانب سے فروخت کئے گئے گردے اس کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
پاکستان میں کئی علاقوں میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو قرضے کی ادائیگی یا اپنی مالی حالات سے تنگ آکر اپنا ایک گردہ فروخت کردیتے ہیں۔
گردے انسانی نظام سے فاسد مادوں کے اخراج، خون کی صفائی اور خون کے دباوٴ کو مستحکم رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ گردوں کی خرابی کی بنیادی وجہ ذیابیطس، گردے کی پتھری اور ہائی بلڈ پریشر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 21 ملین افراد گردے فیل ہونے کی شکایت سے دوچار ہیں۔اکثریت ایسے افراد کی ہے جو اس سے آگاہ نہیں۔
ملک میں گردے کے امراض کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا سبب ذہنی تناوٴ، انتشار اور ذیابیطس کے امراض کا ہونا ہے ۔مرض کی صحیح تشخیص اور بچاوٴ کی تدابیر کے ذریعے ہم اس بیماری کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ مرض کی جلد تشخیص نہ صرف گردوں کی کارکردگی کو مزید خراب ہونے سے بچاتی ہے بلکہ امراض قلب اور فالج کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں میں گردے کی بیماری کا امکان چالیس فیصد بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں جسم میں شوگر لیول اور بلڈ پریشر کا کنٹرول نہ ہونا گردوں کی بیماری کی بڑی وجہ ہے۔ انسانی جسم کو روزانہ دس سے بارہ گلاس پانی کی ضرورت ہوتی ہے، پانی کا کم استعمال گردوں کی کارکردگی پر اثر انداد ہوتا ہے ۔چہل قدمی کی عادت اپنانے اور سگریٹ نوشی سے اجتناب سے بھی گردوں کے امراض سے بچا جاسکتا ہے ۔