Sat, March   20, 2010    
INSIDE MORE
Audio Visual

پیش منظر : منتخب خبریں ، کالم ، مضامین ، فیچر اور پیش منظر و پس منظر
مضمون نگاروں کی راۓ سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
محمد علی کو ہم سے بچھڑے چار سال ہوگئے   
Updated :  3/19/2010 9:49:17 AM
  مفلحٰہ رحمن اے آر وائی نیوز کراچی  
 شہنشاہ جذبات کے نام سے اپنی ایک الگ پہچان بنانے والے اداکار محمد علی وہ خوش نصیب فنکار ہیں جنہیں بعد از موت بھی اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔ حال ہی میں امریکا کے ایک نشریاتی ادارے نے محمد علی کوایشیاء کے25بہترین اور سدابہار فنکاروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

 پاکستانی فلم نگری کے شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی نے 19اپریل 1931ء کو بھارت کے شہر رام پور میں آنکھ کھولی تاہم اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آبسے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ اسی شہر سے انہوں نے فنی کیرئر کا آغاز کیا اور ریڈیو پاکستان کے ڈراموں میں اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگایا لیکن ریڈیو کی دنیا انہیں محدود لگی جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور فلموں میں طبع آزمائی شروع کردی۔


 
 فلمی دنیا میں ان کی آمد فلم چراغ جلتا رہا میں بطور ولن ہوئی ۔انیس سو تریسٹھ میں وہ فلم شرارت میں ہیرو کے طور پر سامنے آئے لیکن اصل شہرت فلم خاموش رہو سے حاصل ہوئی۔

اسی کی دہائی میں انہوں نے بھارت کا رخ کیا اور بھارتی فلم ساز ،ہدایت کار و اداکار منوج کمار کی فلم کلرک میں لیڈنگ رول ادا کیا لیکن انہیں بھارتی فلم انڈسٹری کا ماحول زیادہ پسند نہ آیا جس کے سبب وہ جلد وطن لوٹ آئے۔

انہوں نے تقریباً تین سو اردو،پنجابی،پشتو ،بنگالی اور ہندی فلموں میں کام کیا۔ انہیں چودہ نگار ایوارڈ ، تمغہ امتیاز اور پرآئیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

محمد علی نے چھبیس ستمبر انیس سو سرسٹھ کو تم ملے پیار ملا کی تکمیل کے دوران اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ زیبا سے شادی کی۔ انہوں نے فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر لیا۔اور بچوں کیلئے کئی ہسپتال قائم کئے ۔

فلم دم مست قلندر ان کے فلمی کیرئیرکی آخری فلم ثابت ہوئی۔ 19مارچ 2006ء کو انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد زندگی ان سے وفا نہ کرسکی اور وہ 75 سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔


محمد علی کو ہم سے بچھڑے چار سال ہوگئے   
عراق جنگ آٹھویں سال میں داخل   
اسکواش کے مایہ ناز سپوتوں کا غربت زدہ گاؤں   
ہتھیاروں کی عالمی تجارت   
چھترول پر چھترول   
افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ   
پاکستانی طالبان کمزور ہوئے،ختم نہیں: ماہرین   
گردوں کے امراض سے آگاہی کا دن   
کیا چاہیے؟ سگریٹ کا مزہ یا زندگی بھرکا مزہ   
دوسری شادی؟ سنگین مسئلہ یا مذاق   
کشمیری خواتین : ریاستی دہشت گردی کا بدترین نشانہ   
عراق اور امریکی خدشات   
قوم سے وزیراعظم کے ریڈیو خطاب کا مکمل متن   
سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات معدوم   
کتاب کا عالمی دن   
سری لنکن ٹیم پرحملہ، ایک سال مکمل   
ہیٹی کے بعد چلی کی تباہی   
صوبہ سرحد میں اسکولو ں کی تباہی کے مقاصد   
ایشیائی اور مغربی ہاکی ٹیموں کا ٹکراوٴ آج سے   
عبدالمالک ریگی کون ہے؟   
علاقائی امن میں کشمیر کی اہمیت   
ضمنی انتخابات، ملئے کچھ اہم امیدواروں سے   
حلقہ این اے 55، انتخابی ہنگامے سے قبل ہنگاموں میں   
افغان مشن ہالینڈ حکومت کو لے ڈوبا   
اے آر وائی نیوز کو سچ بولنے کی سزا   
ایک اور عمارت سے طیارے کا تصادم: دہشت گردی نہیں   
افغانستان سے زیادہ پاکستان کا نقصان   
جنوبی وزیرستان سے طالبان کے گہرے رشتے   
کچھ جنوبی وزیرستان کے بارے میں   
پھر آگئے ۔۔۔بو کاٹا کے دن   
ہر صدی کا شاعر: مرزا اسد اللہ خان غالب   
ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔   
افغانستان: آپریشن مشترک فیصلہ کن ثابت ہوگا   
ذکر کچھ اولین پاکستانی فلموں کا   
نیپال ، ہیٹی سے زیادہ طاقتور زلزلے کا خدشہ   
ہجرتیں اور دربدریاں، امان کی تلاش   
خشک سالی کا خطرہ ختم ہوا   
ہفت پہلو شخصیت :اجمل خٹک   
دمشق کی عورت، آزاد بھی غلام بھی   
آبی ذخائر میں خشکی کے ڈیرے   
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی   
عافیہ صدیقی،ڈاکٹر سے امریکی فیصلے تک   
کرکٹ ٹیم کے لئے مایوس کن مہینہ   
ہیٹی: بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری   
وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم و دیگر منصوبے   
ہیٹی زلزلہ اور اے آر وائی ڈیجیٹل کی کاوشیں   
ہیٹی کا زلزلہ اورسلمان اقبال کا جذبہ انسانیت   
ہربھجن کا ایک اور نشانہ   
وڈیروں کی جمہوریت   
پاکستان پر مبینہ ڈرون حملے،ایک اجمالی جائزہ