شہنشاہ جذبات کے نام سے اپنی ایک الگ پہچان بنانے والے اداکار محمد علی وہ خوش نصیب فنکار ہیں جنہیں بعد از موت بھی اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔ حال ہی میں امریکا کے ایک نشریاتی ادارے نے محمد علی کوایشیاء کے25بہترین اور سدابہار فنکاروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
پاکستانی فلم نگری کے شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی نے 19اپریل 1931ء کو بھارت کے شہر رام پور میں آنکھ کھولی تاہم اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آبسے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ اسی شہر سے انہوں نے فنی کیرئر کا آغاز کیا اور ریڈیو پاکستان کے ڈراموں میں اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگایا لیکن ریڈیو کی دنیا انہیں محدود لگی جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور فلموں میں طبع آزمائی شروع کردی۔
فلمی دنیا میں ان کی آمد فلم چراغ جلتا رہا میں بطور ولن ہوئی ۔انیس سو تریسٹھ میں وہ فلم شرارت میں ہیرو کے طور پر سامنے آئے لیکن اصل شہرت فلم خاموش رہو سے حاصل ہوئی۔
اسی کی دہائی میں انہوں نے بھارت کا رخ کیا اور بھارتی فلم ساز ،ہدایت کار و اداکار منوج کمار کی فلم کلرک میں لیڈنگ رول ادا کیا لیکن انہیں بھارتی فلم انڈسٹری کا ماحول زیادہ پسند نہ آیا جس کے سبب وہ جلد وطن لوٹ آئے۔
انہوں نے تقریباً تین سو اردو،پنجابی،پشتو ،بنگالی اور ہندی فلموں میں کام کیا۔ انہیں چودہ نگار ایوارڈ ، تمغہ امتیاز اور پرآئیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔
محمد علی نے چھبیس ستمبر انیس سو سرسٹھ کو تم ملے پیار ملا کی تکمیل کے دوران اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ زیبا سے شادی کی۔ انہوں نے فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر لیا۔اور بچوں کیلئے کئی ہسپتال قائم کئے ۔
فلم دم مست قلندر ان کے فلمی کیرئیرکی آخری فلم ثابت ہوئی۔ 19مارچ 2006ء کو انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد زندگی ان سے وفا نہ کرسکی اور وہ 75 سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔