تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لئے شہر کو اسلحے سے پاک کرنا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات یا ٹارگٹ کلنگ کی تعداد میں اضافے پر تشویش میں مبتلا ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ شہر کو ہتھیاروں سے پاک کرے اور تشدد پر قابو پانے کے لئے غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے جیسی اقتصادی پالیسیوں کے لئے مالی وسائل مختص کرے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بتایا کہ حکومت نے کراچی کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے پروگرام پر عملدرآمد کی غرض سے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے جنوری 2010 سے لے کر اب تک ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
کراچی میں ہلاکتوں کا الزام غیر قانونی ہتھیاروں کی تجارت پر
مایوس شہریوں نے قتل کے ان واقعات کی مذمت کرنے کے لئے شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حالیہ سالوں میں ہر دو سے تین ماہ بعد ہلاکتوں میں اضافے کی لہر آتی ہے جس میں متعدد افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر قابو پانے کے معاملے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 889 افراد قتل ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 260 کو کراچی میں ہدف بنایا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال کراچی میں 884 قتل ہوئے جن میں سے 184 کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے صوبائی رابطہ کار عبد الحئی نے بتایا کہ رواں سال شہر میں ہلاکتوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے۔
کراچی کے نیشنل سوشل فورم کے صدر اور ہتھیاروں سے پاک کراچی کے ایک سرگرم کارکن اقبال جمیل نے میڈیاکو بتایا کہ شہر میں امن و امان کو
تباہ کرنے والے تشدد کی بنیادی وجہ غیر قانونی ہتھیاروں کی موجودگی ہے۔انہوں نے کہا کہ خودکار رائفلوں اور پستولوں سمیت چھوٹے ہتھیار غیر قانونی طور پر باسانی دستیاب ہیں اور وہ مختلف سیاسی جماعتوں اور عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا کہ شہر میں قتل کر کے فرار ہو جانے والے فائرنگ کے تقریباً 95 فیصد واقعات میں 9 ملی میٹر اور اعشاریہ 30 قطر کے پستول استعمال کیے گئے۔خبروں میں مزید بتایا گیا کہ اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم 2009 میں شہر میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب 9 ملی میٹر پستول فروخت کیے گئے۔
ایک وکیل مرخم چیتل نے بتایا کہ شہر کے دیگر جرائم کی نسبت غیر قانونی ہتھیاروں کے مقدمات عدالتوں میں سب سے زیادہ پیش ہوتے ہیں۔ اس وقت غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے ملزمان کے مقدمات زیریں عدالتوں میں چل رہے ہیں جہاں یہ جرم قابل ضمانت ہے۔
سندھ حکومت کے ایک وزیر انجینئر محمد رفیع نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے کراچی کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ایک مشترکہ لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔
سخت سزاؤں پر غور
اقبال جمیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت ایک ایکٹ لانے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت غیر قانونی ہتھیار رکھنے کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو گی اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت بھیج دیا جائے گا۔محمد رفیع نے بتایا کہ ہدف بنا کر قتل کرنے کے بیشتر واقعات میں غیر قانونی ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف ایک حالیہ کارروائی کے دوران غیر قانونی ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد ضبط کی گئی ہے۔
ایک صحافی اور کراچی میں انسانی حقوق کی تنظیم سوسائٹی برائے ترقی و انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اختر حسین بلوچ نے بتایا کہ اقتصادی مایوسی، بالخصوص نوجوانوں میں بے روزگاری، متشدد جرائم میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں تشخص پر مبنی تنظیموں کے لئے حمایت مضبوط بنانے کی غرض سے اقتصادی محرومی کے جذبات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔۔۔۔ بشکریہ : سینٹرل ایشیاء آن لائن