کراچی : پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ اور اردو ادب کے عہد ساز شاعر احمد فراز کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہو گیا۔
سید احمد شاہ جنہیں دنیا احمد فراز کے نام سے جانتی ہے چودہ جنوری انیس سو اکتیس کو صوبہ سرحد کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔
کوہاٹ کے معروف صوفی بزرگ حاجی بہادر کے گھرانے کے چشم وچراغ سید احمد شاہ نے پشاور میں ایڈورڈ کالج اور پشاور یونیورسٹی میں تعلیم حاصلی کی۔دوران طالبعلمی سید احمد شاہ سےوہ احمد فرازتک کا سفر طے کرچکے تھے۔ شعری سفر میں غالب اور ترقی پسند ادب میں ،فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری سے متاثر فراز نےعملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ رائیٹر کے طور پرکیااور پھر پشاور یونیورسٹی میں اردوکے استاد مقرر ہوئے۔
فراز انیس سو چھہتر میں قائم پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے بانی سربراہ بھی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں آمریت کیخلاف لب کشائی کی پاداش میں چھ برس لندن ،کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک کی جلاوطنی میں گزرے۔ اسی دوران انیہں اکیڈمی آف لیٹرز اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا۔
فراز ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے سےبہت متاثرتھے۔ احمد فراز کو دوہزار چار میں انکی ادبی خدمات پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا تاہم انہوں نے سابق صدر کے غیر آئینی اقدامات پر احتجاجاً یہ اعزاز واپس کردیا اوردوہزار سات میں وکلاء کی تحریک میں عملاً شمولیت اختیار کی۔ احمد فراز نے انیس سو پچاس سے دوہزار آٹھ تک چھ دہائیوں پر مبنی اپنی ادبی زندگی میں دنیا بھر میں شہرتوں اور محبتوں کے علاوہ قومی سطح کے نو اعلیٰ اعزازات اور بین الاقوامی سطح کے چھ ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
احمد فراز پچسی اگست دوہزار آٹھ کو علات کے باعث اسلام آباد میں انتقال کرگئے تاہم اس عہد ساز شاعر کا حرف حرف نہ صرف اسکے امر ہونے کا ثبوت ہے بلکہ اردو ادب کی نئی جہتوں کا امین اور نسل نو کیلیے مشعل راہ بھی ہے۔