واشنگٹن : امریکی سرکاری دستاویزمیں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے نے نائن الیون کے مرکزی ملز م خالد شیخ محمد کو ان کے بچے قتل کرنے کی دھمکی دے کر اقبال جرم پر مجبور کیاجبکہ سی آئی اے کی جانب سے ملزمان پر تشدد کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقات کے لئے خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کردیاگیا ہے۔
امریکا کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے مشتبہ شدت پسندوں پر تفتیش کے دوران جسمانی اور ذہنی تشددکے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ ان تحقیقات کی سربراہی خصوصی پراسیکیوٹر جان ڈرہم کریں گے۔
یہ فیصلہ سی آئی اے کے انسپکٹر جنرل کی دوہزار چار کی رپورٹ کے ان حصوں کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا ہے جن میں متعدد شدت پسندوں پر تفتیش کے دوران سی آئی اے کے اہلکاروں یا ان کے ٹھیکیداروں کی جانب سے تشدد کے الزامات سامنے آئے۔
اس رپورٹ کو سابق صدر بش کے دور میں مرتب کیا گیا تھا لیکن اس میں تشدد کے الزامات کے سبب رپورٹ کے بیشتر حصوں کو منظر عام پر نہیں لایاگیا۔امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق دوران حراست خالد شیخ محمد سے یہاں تک کہا گیا کہ اگر امریکا میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو امریکی سی آئی اے ان کے بچوں کو قتل کردے گی۔