تہران : ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے الزام لگایا ہے کہ پاسداران انقلاب پر حملے میں پاکستانی ایجنٹ ملوث ہیں۔ ایرانی وزیرداخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے رحمان ملک سے رابطہ کرکے حملے میں ملوث ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق صدر محمود احمدی نژاد نے دھماکے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایران کوخفیہ معلومات ملی ہیں کہ ایران میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والوں کو پاکستانی ایجنٹ کی پشت پناہی حاصل ہےاور پاکستان ان کی گرفتاری میں ایران سے تعاون کرے۔ اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایرانی وزیر داخلہ سے بات چیت میں عبدا لما لک ریگی کی پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ مسترد کردیا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں پاکستان کے سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ خود کش حملہ آور پاکستان کے راستے ایران میں داخل ہوئے ۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنداللہ کا سربراہ پاکستانی سر زمین پر نہیں ہے۔
پاکستان سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان بلوچستان کے علاقے پیشین میں ایک جرگہ میں خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ نورعلی شوشتری،سیستان بلوچستان کے کمانڈر رجب علی محمد زادہ اور امیر المومنین یونٹ کے کمانڈرسمیت اننچاس سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔