برصغیر پاک و ہند میں اپنے دور کے ذہین ترین طالبعلم ، مذہبی اسکالر اورخاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کو ہم سے بچھڑے آج پینتالیس سال بیت چکے ہیں۔علامہ مشرقی پچیس اگست اٹھارہ سو اٹھاسی کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ کے والد خان عطاء محمد خان کے سر سید احمد خان،جمال الدین افغانی،شبلی نعمانی اور مرزا غالب سمیت اہم شخصیات سے گہرے مراسم تھے۔
مولانا ابو الکلام آزاد انہی کے رسالے وکیل میں شبلی کی سفارش پر مدیر مقرر ہوئے تھے۔ اسی اعلیٰ تعیمی،ادبی اور مذہبی ماحول میں مشرقی نے پرورش پائی۔انیس سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی میں تمام سابق ریکارڈ توڑتے ہوئے اول پوزیشن کے ساتھ ریاضی کی ماسٹر ڈگری حاصل کی۔اعلٰی تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے اور کئی امتیازی وظائف حاصل کئے۔انیس سو بارہ میں واپس آئے تو ریاست علوار کے راجہ نے وزارت اعظمیٰ کی پیشکش کی جسے ٹھکرا کر درس وتدریس کو ترجیح دی۔پچیس سال کی عمر میں اسلامیہ کالج پشاور کے وائس پرنسپل اور انیس سو سترہ میں پرنسپل بنا دئیے گئے۔
اکتوبر انیس سو سترہ میں علامہ مشرقی انگریز کے ہندوستان میں پہلے مسلمان اور کم عمر ترین نائب وزیر تعلیم بنے۔بتیس سال کی عمر میں مشرقی کو افغانستا ن میں سفیر کا عہدہ اور سر کاخطاب پیش کیا گیا ،علامہ مشرقی نے یہ دونوں اعزاز ٹھکرادئیے۔انیس سو چوبیس میں علامہ نے قرآن پاک کی سائنسی تشریح وتوضیح کی جسے نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا لیکن مشرقی نے یہ مشروط انعام لینے سے بھی انکار کردیا۔انیس سو تیس میں مشرقی نے برٹش انڈیا کی ملازمت ترک کرکے خاکسارتحریک کی بنیاد ڈالی اور انگریز سے آزادی کے لیے سرگرم ہوگئے۔
آزادی اور قانون وآئین کی بالادستی کے لیے آپ کی یہ جدوجہد تاعمر جاری رہی۔انہوں نے متعدد مرتبہ اہل خانہ سمیت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔یہ تاریخ ساز شخصیت ستائیس اگست انیس سو تریسٹھ کو کینسر میں مبتلا ہو کر لاہور میں ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔