اسلام آباد : ملک کے بیشتر علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ آسمانی بجلی اور مکانات کی چھتیں گرنے ، کرنٹ لگنے ، اور سیلابی ریلوں میں بہنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پچاس سے زائد ہوگئی ہے ۔
ملک بھر میں بارشوں کے باعث سوات اور شانگلہ سے آنے والے سیلابی ریلے سے لینڈ سلائیڈنگ اور لوگوں کے ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔شانگلہ کے علاقے دھمیرا میں بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے نو افراد جاں بحق ہوگئے۔شانگلہ کے مقام پر ہی ٹانگو میں مکان کی چھت گرنے سے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔اروندو کے مقام پر دریا سے 4 لاشیں ملی ہیںجب کہ یک نگی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔
سوات کے علاقے مٹہ میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق جب کہ دریائے سوات سے چار افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔کبل میں دھیری کے مقام پر دریا میں گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا۔ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان سمیت ایف آر شیرانی میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ٹانک میں دو بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ایک بچہ سانپ کے ڈسنے سے بھی مارا گیا۔چک ملائی کے مقام پر بجلی گرنے سے دو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔شوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد لقمہ اجل بن گئے۔مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر رابطہ پل تباہ ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی بارشیں جاری ہیں۔سندھ میں جیکب آباد ، نوشہرو فیروز،شہداد کوٹ ، لاڑکانہ اور گردونواح میں تیز بارشوں سے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے جب کہ مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔کئی علاقوں میں بجلی معطل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔بلوچستان کے علاقوں جھل مگسی اور گندھاوا میں بارشوں سے بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں سیلاب سے نشیبی علاقے زیر آب ہیں۔۔جب کہ جعفرآباد میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔سب سے زیادہ بارش دیر میں 228 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور لاہور سمیت پنجاب کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔