پشاور : پشاور میں موسلادار بارش سے نو افراد جاں بحق ہو گئے اور درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ افرادکی بحالی کیلئے فوج سے مدد طلب کر لی ۔
اطلاعات کے مطابق پشاور میں بارش کا 34 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور شہر میں اب تک 280 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے ۔ اس سے قبل 1976 میں 114 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی ۔ موسلادھار بارش کے نتیجے میں قادرآباد میں متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ دو افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہو گئے ۔
اس کے علاوہ جی ٹی روڈ ، چارسدہ روڈ اورکوہاٹ روڈ پر واقع متعدد دیہات زیرآب آ گئے ۔ ناصر پور ، چغل پورہ ، اکبر پورہ ، بڈھنی ، قاضی آباد ، گنی ، شبہے ، میاں گجر اور شاہی بالا سمیت دیگر دیہاتوں میں بارش نے تباہی مچا دی اور سینکڑوں گھر اور مالی مویشی بہہ گئے ۔ لوگ دیگر علاقوں میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے پشاور میں سیلاب سے متاثر افراد کی بحالی کے لئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں اور متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے فوج طلب کر لی ہے ۔ شہر کے بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ مضافائی علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کےلئے کشتیوں کا انتظام کیا جا رہاہے ۔