سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیر چھوڑ دو تحریک کے تحت جمعرات کو 28 ویں روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مظاہرے و دھرنے دیئے گئے جبکہ سری نگر اور اس کے نواح میں ایک بار پھر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے۔ فورسز کے تشدد سے دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوگئے جبکہ 40 سے زائد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گزشتہ ایک ماہ میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد 14سوہوگئی ہے۔
دوسری جانب حریت کانفرنس میرواعظ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن کے قیام کو ریاستی عوام اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیا ہے.
سرحد پار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حریت کانفرنس گیلانی گروپ کے احتجاجی پروگرام کے تحت سری نگر اور وادی کے دیگر قصبوں میں جمعرات کو28 ویں روز بھی مکمل ہڑتال رہی ،پلوامہ ،ترال،شوپیاں،پانپور، راجیورہ،اسلام آباد، مٹن ،بیجبہاڑہ ،کولگام،بٹہ مالو، بانڈی پورہ، ورمول ،اونتی پورہ او ردیگر علاقوں میں کاروباری و تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے ،سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی جس سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا اس دوران نٹی پورہ، رام باغ، کنی پورہ، ٹیگہ پورہ،سعدہ کدل ،اسلام آباد کولگام سمیت کئی مقامات پر بھارتی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے و دھرنے دییئے گئے اور زبردست نعرے بازی کی گئی ، انتظامیہ نے ایک بار پھر شہر کے بیشتر علاقوں میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا اورفورسز نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔
دوسری جانب سینئر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق سے ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے تشکیل دیئے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی برادری اور عوامی کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے ،اپنی نظر بندی کے دوران اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب بھی قتل عام ہوتا ہے حکومت انکوائری کا اعلان کرتی ہے تاہم آج تک کبھی بھی تحقیقات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا.